Loading...

درخواست فارم درخواست فارم کا اسٹیٹس چیک کریں

داخلہ کی معلومات اور جامعہ کے ضوابط سے متعلق سوالات اس ای میل پر ارسال فرمائیں talimaat@gmail.com

ٹیکنیکل سپورٹ کے لئے اس ای میل پر رابطہ فرمائیں it@darululoomkarachi.edu.pk

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اعلان داخلہ برائے تعلیمی سال 46-1445ھ

داخلے کے لیے آن لائن فارم پُر کرنے کی تاریخ :

بروز منگل 26 مارچ 2024ء مطابق15 رمضان المبارک 1445ھ

تا

بروز منگل 16 اپریل 2024ء مطابق 7 شوال المکرم 1445ھ(دوپہر 12 بجے تک)

وضاحت:

  1. جدید طلبہ کے لئے داخلہ امتحان مرکز کورنگی ہی میں منعقد کیا جائے گا۔
  2. ادارہ اپنے طور پر بھی کوائف کی پڑتال کرے گا کوائف کی صحت اور پڑتال کے بارے میں ادارے کی رائے حتمی ہوگی۔
  3. شاخ نانک واڑہ میں حسب معمول مرحلہ دراسات دینیہ میں غیر رہائشی و غیر امدادی داخلے ہوں گے۔ نیز بعض مختلف درجات میں بھی داخلے متوقع ہیں۔

داخلہ کارروائی کی مرحلہ وار ترتیب

پہلا مرحلہ آن لائن رجسٹریشن
(جامعہ کی ویب سائٹ پر داخلہ فارم پر کریں)
بروز منگل 26 مارچ 2024ء مطابق15 رمضان المبارک 1445ھ
بروز منگل 16 اپریل 2024ء مطابق 7 شوال المکرم 1445ھ(دوپہر 12 بجے تک) تک جاری رہے گا۔
دوسرا مرحلہ کوائف کی چیکنگ اور رقم الجلوس کا اجراء بروزبدھ، جمعرات 17 ،18 اپریل بمطابق 9،8 شوال 1445ھ
تیسرا مرحلہ تحریری امتحان برائے داخلہ درجہ دورہ حدیث تا درجہ اعدادیہ سال اول
تحریری امتحان داخلہ برائے درجات تخصصات
بروز ہفتہ 20 اپریل 2024 بمطابق 11 شوال المکرم 1445ھ
بروز جمعرات 25 اپریل 2024 بمطابق 16 شوال المکرم 1445ھ
چوتھا مرحلہ تقسیم بطاقۃ تقریری امتحان +تقریری امتحان + تجوید کا جائزہ +طبی معائنہ بروز پیر 22 اپریل 2024ء بمطابق 13 شوال المکرم 1445ھ

تاریخ تحریری امتحان (اعدادیہ اول تا دورہ حدیث):

بروز ہفتہ 20 اپریل 2024 بمطابق 11 شوال المکرم 1445ھ

تاریخ تحریری امتحان (تخصصات):

بروز جمعرات 25 اپریل 2024 بمطابق 16 شوال المکرم 1445ھ

تحریری امتحان میں شرکت کی اجازت حاصل ہوجانے کے بعدتحریری امتحان سے قبل تمام سندات ، وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ (اگر ہو)اور قومی شناختی کارڈیا ب فارم کی مصدقہ نقول ساتھ لانا لازمی ہے۔

داخلہ کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی آخری تاریخ بروز منگل 16 اپریل 2024ء مطابق 7 شوال المکرم 1445ھ(دوپہر 12 بجے تک) ہے۔ اس کے بعد داخلہ کے لیے رجسٹریشن نہیں ہوگی۔

قدیم طلبہ کی داخلہ کارروائی:

بروز بدھ مؤرخہ 17 اپریل 2024ءبمطابق 8 شوال1445 ھ

جامعہ وشاخہائے جامعہ میں تعلیمی سال 1445-1446ھ میں درج ذیل درجات میں داخلوں کی محدود گنجائش ہے۔

شرائط داخلہ

نمبر شمار مطلوبہ درجہ شرط اہلیت
1 التخصص فی الافتاء وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے دورہ حدیث کے امتحان میں ممتاز درجے میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔عربی اور اردو تحریر صاف اور خوش خط ہونا ضروری ہے۔ جن طلبہ کا خط خراب ہو وہ داخلہ کے لئے رجوع نہ فرمائیں۔
2 التخصص فی الدعوۃ والارشاد وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے دورہ حدیث کے امتحان میں کم از کم 70 فیصد نمبر لے کرکامیاب ہونا ضروری ہے۔اردو ، عربی اور انگریزی میں سے کسی ایک زبان میں اچھی تحریر لکھنے کی صلاحیت ہو اور خوش خط لکھتا ہو۔تجوید کی استعداد اچھی ہواور کم از کم میٹرک معیاری درجہ میں پاس کیا ہو یا اس کی مساوی استعداد کی انگریزی سے واقفیت ہو۔
3 التخصص فی القراآت حفظ قرآن کریم مکمل پختگی کے ساتھ ہو۔ فراغت از روایت حفص و تجوید نیز قراآت عشرہ و درس نظامی میں کم از کم درجہ جید جدا کے ساتھ کامیاب ہوا
4 التجوید للعلماء ناظرہ قراآن مجید صحیح تلفظ اور روانی کے ساتھ پڑھنا آتا ہو، حافظ قرآن مجید ہونا قابل ترجیح ہوگا۔ کسی مستند دینی درسگاہ سے درس نظامی کی تکمیل کم از کم 50 فیصد سے پاس کیا ہوا۔ درجہ ممتاز میں کامیابی اور وفاق کی سند کا حامل ہونا قابل ترجیح ہوگا۔
5 العالمیۃ/ السنۃ الثانیۃ (دورہ حدیث) ۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے عالمیہ سال اول کے امتحان میں ” ممتاز “درجے میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا بھی لازم ہے۔۳۔ میٹرک پاس نہ ہونے والے ممتاز طلبہ کو داخلہ امتحان میں کامیاب ہونے پر داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن ان کی جامعہ کی سند میٹرک میں کامیابی پر موقوف ہوگی۔
6 العالمیۃ/ السنۃ الاولیٰ (درجہ سابعہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے عالیہ سال دوم کے امتحان میں ” ممتاز “درجے میں کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا بھی لازم ہے۔۳۔ میٹرک پاس نہ ہونے والے ممتاز طلبہ کو داخلہ امتحان میں کامیاب ہونے پر داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن ان کی جامعہ کی سند میٹرک میں کامیابی پر موقوف ہوگی ۔
7 العالیۃ /السنۃ الثانیۃ (درجہ سادسہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے عالیہ سال اول کے امتحان میں کم ازکم” 70فیصد “اوسط کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا بھی لازم ہے۔البتہ میٹرک پاس نہ ہونے والے ممتاز طلبہ کو داخلہ امتحان میں کامیاب ہونے پر داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن ان کی جامعہ کی سند میٹرک میں کامیابی پر موقوف ہوگی ۔
8 العالیۃ /السنۃ الاولیٰ (درجہ خامسہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سےخاصہ سال دوم کے امتحان میں کم ازکم ” 70فیصد “اوسط کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا بھی لازم ہے۔البتہ میٹرک پاس نہ ہونے والے ممتاز طلبہ کو داخلہ امتحان میں کامیاب ہونے پر داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن ان کی جامعہ کی سند میٹرک میں کامیابی پر موقوف ہوگی ۔
9 الخاصۃ/ السنۃ الثانیۃ (درجہ رابعہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے خاصہ سال اول کے امتحان میں کم ازکم ” 70فیصد “اوسط کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا بھی لازم ہے۔
10 الخاصۃ/ السنۃ الاولیٰ (درجہ ثالثہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے عامہ سال دوم کے امتحان میں ممتاز یا کم از کم 70 فیصد اوسط کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا لازم ہے۔
11 العامۃ /السنۃ الثانیۃ (درجہ ثانیہ) ۱۔وفاق المدارس یا کسی مستند دینی درسگاہ سے عامہ سال اول کے امتحان میں ممتاز یا کم از کم 70فیصد اوسط کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔۲۔میٹرک پاس ہونا لازم ہے۔
12 العامۃ/ السنۃ الاولیٰ (درجہ اولیٰ) ۱۔درجہ اولیٰ میں داخلہ کے امیدوار کا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔اگر امیدوار داخلہ نے میٹرک مکمل نہ کیا ہو تو وہ اپنی نویں جماعت کا رزلٹ اور اسکول سے اپنی دسویں جماعت کی تعلیم مکمل کرنے کا تصدیق نامہ یا میٹرک کے امتحان میں شرکت کا ایڈمٹ کارڈ پیش کردے تواسے داخلہ امتحان میں شریک کیا جاسکتاہے۔ ۲ ۔ناظرہ قرآن مجید مکمل کرچکا ہو۔
13 المتوسطۃ ا/لسنۃ الخامسۃ (اعدادیہ پنجم)میٹرک نہم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد ہو۔ عمر 19 سال سے زائد نہ ہو۔
14 المتوسطۃ /السنۃ الرابعۃ (اعدادیہ چہارم) جماعت نہم ہشتم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد ہو۔ عمر 18سال سے زائد نہ ہو۔
15 المتوسطۃ /السنۃ الثالثۃ (اعدادیہ سوم) جماعت ہشتم ہفتم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد ہو۔ عمر 17سال سے زائد نہ ہو۔
16 المتوسطۃ/ السنۃ الثانیۃ (اعدادیہ دوم) جماعت ہفتم ششم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد ہو۔ عمر 16سال سے زائد نہ ہو۔
17 المتوسطۃ /السنۃ الاولیٰ (اعدادیہ اول) جماعت ششم پنجم جماعت تک ابتدائی تعلیم کی عمدہ استعداد رکھتے ہوں۔ حافظ قرآن کیلئے رعایت ہے کہ وہ کم ازکم جماعت چہارم کی ریاضی ، اردو اور انگریزی کی استعداد رکھتے ہوں۔عمر 15سال سے زائد نہ ہو۔ مدرسہ ابتدائیہ و ثانویہ، دار القرآن، شاخ بیت المکرم اور شاخ نانک واڑہ سے آمدہ امیدوار کے لئے عمر کی رعایت کی جاسکتی ہے۔
18 الدراسات الدینیۃ السنۃ الاولیٰ دراسات دینیہ میں داخلہ کے امیدوار کا مڈل پاس ہونا ضروری ہے۔ ناظرہ قرآن کریم میں عمدگی ہو۔

داخلہ کارروائی کے لیے درج ذیل امور ملحوظ رکھیں

  1. جامعہ کی ویب سائٹ پر فارم بھرنے کے بعد جامعہ کی طرف سے جاری کردہ آن لائن رجسٹریشن نمبر پیش کریں۔
  2. 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی دو عدد فوٹو کاپی ہمراہ لائیں اور حالیہ بنی ہوئی چارتصویریں لائیں۔
  3. 18 سال سے کم عمر کے طلبہ فارم ب اور حالیہ بنی ہوئی چار تصویریں ساتھ لائیں۔
  4. داخلے کے خواہش مند تمام طلبہ اپنے والد / رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی ساتھ لائیں اور ان کے فون نمبر بھی تحریری طور پر پیش کریں۔
  5. سابقہ وفاقی درجہ کی کشف الدرجات یا وفاق کا مصدقہ نتیجہ اور اس کی ایک فوٹو کاپی ساتھ لائیں۔
  6. متوسطات، دراسات دینیہ اور درجہ اولیٰ کے علاوہ تمام درجات کے طلبہ وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ لازمی طور پر پیش کریں۔
  7. درجہ اولیٰ میں داخلہ کے لیے میٹرک کا مصدقہ سرٹیفکیٹ اور اس کی فوٹو کاپی ساتھ لائیں۔
نوٹ: سرپرست رشتہ دار سے مراد طالب علم کا وہ قریبی عزیز ہوگا جو طالب علم کی ہر قسم کی ضمانت اٹھائے، ادارے کی طلب پر حاضر ہوسکے نیز تکمیل داخلہ کے وقت تحریری ضمانت نامہ بھی جمع کرائے۔

جدید داخلے کے لیے تقریری وتحریری امتحان کی کتب کی تفصیل

نمبر شمار مطلوبہ درجہ تحریری امتحان تقریری امتحان
1

التخصص فی الافتاء

السنۃ الاولیٰ

ترجمۃ قرآن کریم ، مشکوٰۃ المصابیح(کامل)،ہدایہ(کامل)،نورالانوار (کامل)

سراجی،شرح العقائد للنسفیؒ

۱۔واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔۲۔تخصص فی الافتاء میں داخلہ کے بعد تین سالہ نصاب پورا کرنا لازم ہوگا۔۳۔تخصص کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی اجازت نہیں ہوگی۔

ترجمہ وتفسیر،حدیث، فقہ واصول فقہ

2

التخصص فی الدعوۃ والارشاد

السنۃ الاولیٰ

پرچہ علوم اسلامی، عربی، انگریزی

۱۔تخصص فی الدعوۃ والارشاد میں داخلہ کے بعد دوسالہ نصاب پورا کرنا لازم ہوگا۔۲۔تخصص کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی اجازت نہیں ہوگی۔

۳۔ واضح رہے کہ تقریری امتحان میں فقہ (قسم العبادات) کا جائزہ ہوگا، جس میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو بھی پرکھا جائے گا۔جبکہ تحریری امتحان علوم درس نظامی پر مشتمل ہوگا جس میں سلیقہ تحریر کو بھی مد نظر رکھا جائے گا۔

فقہ،

زبانی جائزہ

قسم العبادات

3

التخصص فی القراآت

السنۃ الاولیٰ

تحریری جائزہ، کتب تجوید و قراآت

تخصص فی القراآت میں داخلہ کے بعد دوسالہ نصاب پورا کرنا لازم ہوگا۔تخصص کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی اجازت نہیں ہوگی۔ داخلہ امتحان میں حدر مع منزل، ترتیل قرآن کریم ، کتب تجوید و قراآت کا زبانی اور تحریری جائزہ ہوگا۔

ترتیل،

حدر مع منزل

4

التجوید للعلماء

تحریری جائزہ

القرآن الکریم، زبانی جائزہ

5

العالمیۃ/ السنۃ الثانیۃ

(دورہ حدیث)

تفسیر جلالین (کامل)، مشکاۃ المصابیح (کامل)، الہدایۃ (کامل) شرح العقائد، معین الفلسفۃ، القطبی، الشرح لملا جامی، دروس البلاغۃ، مقامات الحریری، نور الانوار،علم الصیغۃ، انشاء عربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔,عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ دورہ حدیث کے علاوہ کوئی اور امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جمال القرآن، حفظ جزء عم

6

العالمیۃ /السنۃ الاولیٰ

(درجہ سابعہ)

تفسیر جلالین (کامل)، التوضیح والتلویح، دیوان الحماسۃ ،الھدایۃ الجلد الثانی، المسند للامام اعظم، شرح العقائد، معین الفلسفۃ، القطبی، الشرح لملا جامی، دروس البلاغۃ، علم الصیغۃ،انشاء عربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔,عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ سابعہ کے علاوہ کوئی اور امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

جمال القرآن، حفظ جزء عم

7

العالیۃ/السنۃ الثانیۃ

(درجہ سادسہ)

مختصر المعانی، الھدایۃ المجلد الاول، معین الفلسفۃ، الشرح لملا جامی، مقامات الحریری، نور الانوار، علم الصیغۃ، انشاءعربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔,عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔درجہ سادسہ کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا۔

جمال القرآن، حفظ جزء عم

8

العالیۃ /السنۃ الاولیٰ

(درجہ خامسہ)

القطبی، شرح الوقایۃ، الشرح لملا جامی، دروس البلاغۃ، مقامات الحریری، نور الانوار،

علم الصیغۃ، انشاء عربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔درجہ خامسہ کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا

جمال القرآن، حفظ جزء عم

9

الخاصۃ/السنۃ الثانیۃ

(درجہ رابعہ)

الکافیۃ، شرح التہذیب، کنز الدقائق، علم الصیغۃ، انشاء عربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ رابعہ کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا

جمال القرآن، حفظ جزء عم

10

الخاصۃ /السنۃ الاولیٰ

(درجہ ثالثہ)

علم الصیغۃ، مختصر القدوری، المرقاۃ، انشاء عربی

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ ثالثہ کے علاوہ کسی اور امتحان کی تیاری کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگا۔

جمال القرآن، حفظ جزء عم

11

العامۃ /السنۃ الثانیۃ

(درجہ ثانیہ)

انشاء عربی، ترکیب، علم الصرف، علم النحو

واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طور پر ہوگا اور سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔عربی اور اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ ثانیہ کے علاوہ کوئی اور امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی ۔

جمال القرآن، حفظ جزء عم

12

العامۃ/السنۃ الاولیٰ

(درجہ اولیٰ)

اس درجہ میں داخلہ کے لئے ان کتب و مضامین سے تحریری و تقریری امتحان لیا جائے گا:(1) قرآن کریم(2) اردو دہم(3)ریاضی دہم(4)انگریزی دہم تحریری امتحان میں سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔ اردو تحریر صاف ، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ درجہ اولیٰ کے علاوہ کوئی اور امتحان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

القرآن الکریم

13

المتوسطۃ/السنۃ الخامسۃ

(اعدادیہ پنجم) میٹرک

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قرآن کریم (2) اردو نہم(3) ریاضی نہم(4) انگریزی نہم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔

القرآن الکریم

14

المتوسطۃ/السنۃ الرابعۃ

(اعدادیہ چہارم) جماعت نہم

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قرآن کریم (2) اردو ہشتم(3) ریاضی ہشتم(4) انگریزی ہشتم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔

القرآن الکریم

15

المتوسطۃ/ السنۃ الثالثۃ

(اعدادیہ سوم)

جماعت ہشتم

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قرآن کریم (2) اردو ہفتم(3) ریاضی ہفتم(4) انگریزی ہفتم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔

القرآن الکریم

16

المتوسطۃ/السنۃ الثانیۃ

(اعدادیہ دوم)

جماعت ہفتم

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قرآن کریم (2) اردو ششم (3) ریاضی ششم(4) انگریزی ششم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔

القرآن الکریم

17

المتوسطۃ/ السنۃ الاولیٰ

(اعدادیہ اول)

جماعت ششم

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قراآن کریم (2) اردو پنجم (3) ریاضی پنجم(4) انگریزی پنجم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ ۔ حافظ قرآن کیلئے رعایت ہے کہ وہ کم ازکم جماعت چہارم کی ریاضی ، اردو اور انگریزی کی استعداد رکھتے ہوں۔

القرآن الکریم

18

الدراسات /السنۃ الاولیٰ

ان کتب و مضامین سے تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا۔ (1) قرآن کریم (2) اردو ہشتم(3) ریاضی ہشتم(4) انگریزی ہشتم,اردو تحریر صاف، خوشخط ہونا ضروری ہے۔ اس درجہ میں داخلہ مطلقاً غیر امدادی و غیر رہائشی دیا جاتا ہے۔

القرآن الکریم

ملحوظہ: تمام درجات کے تحریری امتحان میں عربی انشاء کا امتحان بھی لازمی طورپر ہوگا اور خوش نویسی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا ۔

قدیم طلبہ کے لیے داخلہ کارروائی کا طریقہ کارو ہدایات

  1. قدیم طلبہ کی داخلہ کارروائی 8 شوال المکرم 1445ھ مطابق 17 اپریل 2024ء کو شروع ہوگی ۔لہذا تمام طلبہ مقررہ تاریخ تک جامعہ پہنچ جائیں۔
  2. تمام قدیم طلبہ اپنے داخلہ نمبر کے حساب سے پہلے معلوم کریں کہ کون سی فہرست میں ان کا نام شامل ہے ۔
  3. فہرست اول میں شامل طلبہ درخواست داخلہ منظور کروا کر متعلقہ مجاز کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔
  4. فہرست دوم میں شامل طلبہ اپنی داخلہ کارروائی کے لئے درخواست داخلہ کے ہمراہ حضرت نگران امور داخلہ مدظلہم کے رو برو پیش ہوں۔
  5. تمام قدیم طلبہ اپنے رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لکھ کر ساتھ لائیں۔
  6. جن طلبہ کا سالانہ نتیجہ 55 فیصد سے کم ہو انکا داخلہ کرنا جامعہ کی ذمہ داری نہیں ۔
  7. جن طلبہ سے معذرت کرلی گئی ہے وہ داخلہ کے لئے زحمت نہ فرمائیں۔
  8. مرکز کے طلبہ کا تجدید داخلہ مرکز میں اور شاخ کے طلبہ کا متعلقہ شاخ میں ہوگا۔
  9. شاخ بیت المکرم کے درجہ رابعہ کے طلبہ درجہ خامسہ میں داخلہ کے لئے مرکز کورنگی رجوع فرمائیں۔

نوٹ:

  1. تجدید داخلہ کی کارروائی سے قبل تمام طلبہ اپنی وضع قطع بالخصوص اپنے سر کے بال سنت کے مطابق درست کرکے آئیں۔
  2. واضح رہے کہ سرپرست رشتہ دار سے مراد طالب علم کا وہ قریبی عزیز ہوگا جو طالب علم کی ہر قسم کی ضمانت اٹھائے ادارے کی طلب پر حاضر ہوسکے نیز تجدید داخلہ کے وقت تحریری ضمانت نامہ بھی جمع کرائے۔

طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط:

  1. اعمال و اخلاق ، تہذیب و شائستگی اور وضع قطع کا ایک عالم دین کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
  2. دوران تعلیم کسی انجمن یا جماعت سے کسی بھی قسم کا تعلق ممنوع ہوگا۔
  3. جامعہ دار العلوم کراچی کے طلبہ کو عصری تعلیم کے امتحانات صرف کراچی بورڈ سے ہی دینے کی اجازت ہے لہذا کسی اور شہر یا صوبے سے داخلہ بھیجنے کی صورت میں عصری تعلیم کے امتحانات دینے کے خواہشمند طالب علم کو اپنا امتحانی سینٹر کراچی بورڈ سے تبدیل کرانا ضروری ہو گا۔ بصورت دیگر (کسی اور شہر یا صوبے سے)عصری تعلیم کے امتحان دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
  4. جامعہ دارالعلوم کراچی میں مرحلہ عامہ (درجہ اولی، درجہ ثانیہ) اور مرحلہ عالیہ (درجہ سابعہ درجہ دورہ حدیث کے طلباء کو عصری تعلیم کے امتحانات دینے کی اجازت نہیں ہے۔ دیگر مراحل مرحلہ خاصہ، عالیہ اور تخصصات کے طلبہ طے شدہ درج ذیل طریقہ کار کے مطابق عصری تعلیم کے امتحان دینے کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں۔
    • عصری تعلیم کے امتحان کی اجازت کی درخواست پیش کرتے وقت آخری امتحان میں درخواست گذار کا نتیجہ ستر فیصد ہونا ضروری ہے۔
    • اس اجازت کی درخواست پر نگران جماعت زید مجدہ اور گمران مرحلہ مدظلہ کی سفارش تحریر ہوا اسکے بعد پھر درخواست حضرت عمید الدراسات صاحب مد ظلہم کے دفتر میں برائے تحصیل اجازت پیش کر دی جائے، اسکے بعد دفتری طور پر ان تمام درخواستوں کو یکجا کر کے حضرت رئیس الجامعہ مد ظلہم العالی سے منظوری حاصل کرلی جائے گی مذکورہ شر الط کے حامل خواہشمند طلبہ اپنی عصری تعلیم کے امتحان کی اجازت کی درخواستیں عید الاضحیٰ سے قبل ادارہ امور تعلیمات میں منظوری کے لیے جمع کرائیں۔ یاد رہے اجازت حاصل کے بغیر عصری امتحان میں شرکت کرنا منع ہے۔
  5. جامعہ دارالعلوم کر اچی میں طالب علم کے ایک ماہ میں اڑتالیس (۴۸) گھنٹے غیر حاضری کرنے پر اور اسی طرح دوران سال سو (۱۰۰) گھنٹےغیر حاضری کرنے پر اخراج کر دیا جاتا ہے۔نیز دوران سال پچاس (۵۰) گھنٹے غیر حاضری کرنے پر امدادی طالب علم کا داخلہ تا آخر سال غیر امدادی کر دیا جاتا ہے ، اور مستطیع طالب علم کا داخلہ بھی دوران سال پچاس (۵۰) گھنٹے غیر حاضری کرنے پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ طلبہ اور ان کے سر پرست بغور نوٹ فرمالیں۔طلبہ تمام گھنٹوں کے اسباق میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ، اور غیر حاضری سے مکمل اجتناب کریں اور بیماری یا کسی عارض کی صورت میں بروقت درخواست دینے کا اہتمام کریں۔
  6. کسی بھی طالب علم کو داخلہ نہ دینے کی وجوہ کا اظہار جامعہ دارالعلوم کراچی کے ذمہ نہیں ہے۔
  7. جس طالب علم کے بارے میں مسلک علماء دیوبند میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کا علم ہوجائے یا بد عقیدگی یا کسی اور سیاسی جماعت سے تعلق کا شبہ ہوگا تو اس کا داخلہ نہیں ہوگا۔
  8. جدید طلبہ کے لئے داخلہ کی متعینہ تاریخوں کے بعد آنے والے طالب علم کا داخلہ یقینی نہیں ہوگا۔,داخلہ کے تمام خواہشمند افراد کے لئے اپنی سابقہ تعلیمی اسناد اور کشف الدرجات ساتھ لانا ضروری ہے۔
  9. واضح رہے کہ تقریری امتحان میں عبارت نحوی و صرفی اعتبار سے درست پڑھنے کی صلاحیت کو اور تحریری امتحان میں سلیقہ تحریر کو مد نظر رکھا جائے گا۔
  10. ہر طالب علم کی اہل سنت والجماعت کے مسلک حق سے مکمل وابستگی ضروری ہے،جمہور علماء اور خصوصاجامعہ کے اسلاف کے فکروعمل سے مکمل مطابقت اور ہم آہنگی رکھے اوراس سے کسی بھی قسم کا انحراف نہ کرے ۔
  11. نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے، ترک جماعت کے لئے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔
  12. اساتذہ جامعہ سے عقیدت ومحبت اوردل سے ان کی عزت واحترام تحصیل علم اور استفادہ کی اولین شرط ہے، لہٰذا ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کریں اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہ راست اس کے استاد نہ ہوں۔
  13. ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے، سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے، اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
  14. ہرطالب علم کو اپنی شکایات اور ضروریات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں، اگر کوئی ساتھی زیادتی کرے تو خود جواب دینے اور بدلہ لینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بلکہ ناظمین اور اساتذہ کرام کے سامنے پیش کرکے چارہ جوئی کرے۔
  15. سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے، ایسی شدید ضرورت میں جو سبق قضا کئے بغیر نہ پوری کی جاسکے، خود چھٹی کی درخواست دفتر کو دینا ضروری ہے، کسی کے ہاتھ درخواست بھیجنا یا فون پر اطلاع کردیناہرگز کافی نہ ہوگا اسی طرح بیماری کی درخواست اس وقت منظور ہوگی جب سبق میں شرکت ناممکن یا زیادتی ٴمرض کی موجب ہو، دار الاقامہ میں رہنے والے طلبہ کی درخواست اس وقت تک منظور نہ ہوگی جب تک ناظم دار الاقامہ کے دستخط نہ ہوں،باہر رہنے والے طلبہ کو اپنے سرپرست اور پھر کلاس کے نگران استاذسے دستخط کراکر درخواست پیش کرنا ہوگی۔
  16. جو طالب علم مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کرے گا، تنبیہ کے بعد بھی اگر باز نہ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔
  17. طلبہ کے لئے سیاست، جلسہ،جلوس وغیرہ میں شرکت ممنوع ہے، جو طالب علم کسی سیاسی جماعت یا غیر تعلیمی سرگرمی میں ملوث پایا گیا،اسے خارج کردیا جائے گا۔
  18. چونکہ جامعہ طلبہ کی تمام تر ضروریات کی کفالت کرتاہے اس لئے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا تمام تر وقت یکسوئی کے ساتھ تحصیل علم میں صرف کریں اور اپنی حوائج وضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور ذرائع کی جستجو نہ کریں۔
  19. جو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر کوئی دوسرا مشغلہ مثلاً: امامت، مؤذنی وغیرہ اختیار کریں گے، وہ جامعہ کی امداد اور دار الاقامہ کی سکونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
  20. جن کم سن طلبہ کی سکونت جامعہ کے دار الاقامہ میں نہ ہو، ان کے سرپرست داخلہ کے وقت انکے ہمراہ ضرور آئیں اور جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ ومنتظمین کی ہدایات کو سمجھیں اور بچوں سے ان پر عمل کرائیں، خلاف ورزی پر سخت باز پرس کریں، وقتاً فوقتاً جامعہ میں آکر اساتذہ وانتظامیہ سے حالات ضرور معلوم کرتے رہیں، تعطیلات کے ایام میں خاص طور پر بچوں کے اعمال واخلاق کی پوری نگرانی رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔
  21. دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ کسی بھی وقت دار الاقامہ سے باہر جانے کے لئے ناظم دار الاقامہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
  22. عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں خصوصاً رات کے اوقات میں دار الاقامہ یا درسگاہوں میں موجود ہونا ضروری ہے، اگر کسی وقت بھی دار الاقامہ کی حاضری لی گئی اور کوئی طالب علم موجود نہ ہوا تو وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا۔
  23. جو طلبہ سیر وتفریح، احباب کی ملاقاتوں، غیر ضروری مہمان نوازی میں اپنا وقت ضائع کریں گے، تنبیہ کے بعد بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو خارج کردیے جائیں گے، دار الاقامہ میں بغیر اجازت کے مہمان ٹھہرانے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی۔
  24. اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔
  25. ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے، کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے، پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے، اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
  26. جامعہ کے مہتمم ،اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل بازپرس کا حق ہے ،ان کے حکم کی تعمیل کرناطالب علم کا فرض ہوگا،انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذہ کا پورا حق حاصل ہوگا ۔ ہر طالب علم پر لازمی ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانی والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے ۔